المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم أسيد الأنصارية أم مالك البهزية من بني سليم باب: سیدہ ام اسید انصاریہ رضی اللہ عنہا، ام مالک بہزیہ، بنو سلیم سے
حدیث نمبر: 21822
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ فِي الْفِتْنَةِ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي مَالِهِ يَعْبُدُ رَبَّهُ، وَيُؤَدِّي حَقَّهُ، وَرَجُلٌ أَخَذَ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ يُخِيفُهُمْ وَيُخِيفُونَهُ»ترجمہ
سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فتنے کے زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے مال میں الگ تھلگ رہ کر اپنے رب کی عبادت کرے اور اس کا حق ادا کرے، اور وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے نکلے، وہ دشمن کو ڈراتا ہے اور دشمن اسے ڈراتا ہے۔“