کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ کے پسینے سے متعلق واقعہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِنْدَنَا فَعَرِقَ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟ قَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ "
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آرام کے لیے لیٹ گئے، تو آپ ﷺ کو پسینہ آ گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا ایک شیشی لے آئیں اور اس میں پسینہ جمع کرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اے ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟“ انہوں نے کہا: یہ آپ کا پسینہ ہے، ہم اسے اپنی خوشبو میں ملاتے ہیں، اور یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21751
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 119، حدیث 289
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقِيلُ عِنْدِي، فَأَبْسُطُ لَهُ نِطَعًا، فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، فَيَعْرَقُ، فَكُنْتُ أَعْجِنُ السُّكَّ بِعَرَقِهِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَاسْتَوْهَبْتُ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنْ ذَلِكَ السُّكِّ، فَوَهَبَتْ لِي مِنْهُ، فَلَمَّا مَاتَ مُحَمَّدٌ حَنَّطَ بِذَلِكَ السُّكِّ، وَكَانَ مُحَمَّدٌ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَنِّطَ الْمَيِّتَ بِالسُّكِّ
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ میرے پاس قیلولہ فرماتے تھے، تو میں آپ ﷺ کے لیے ایک چمڑے کا فرش بچھا دیتی، آپ ﷺ اس پر آرام فرماتے تو پسینہ آ جاتا، میں اس پسینے سے مشک ملا کر خوشبو تیار کیا کرتی تھی۔“ محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے اس مشک میں سے کچھ مانگا تو انہوں نے مجھے دے دیا، پھر جب محمد (بن سیرین) کا انتقال ہوا تو انہیں اسی مشک سے حنوط کیا گیا، اور محمد کو یہ بات پسند تھی کہ میت کو مشک کے ساتھ حنوط کیا جائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21752
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 119، حدیث 290