المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر أم سليم في الغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک ہونے کا واقعہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ: مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: خِنْجَرٌ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْبَلَ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا حنین کے دن ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں اور ان کے پاس ایک خنجر تھا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے ام سلیم! یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ خنجر میں نے اس لیے رکھا ہے کہ اگر مشرکین میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نہیں سن رہے کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں، وہ ایسا ایسا کہہ رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پیچھے سے وہ آزاد شدہ لوگ آ گئے جو آپ کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! اللہ نے کافی کر دیا اور بہتر کیا۔“