المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر أم سليم في عرق رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ کے پسینے سے متعلق واقعہ
حدیث نمبر: 21752
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقِيلُ عِنْدِي، فَأَبْسُطُ لَهُ نِطَعًا، فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، فَيَعْرَقُ، فَكُنْتُ أَعْجِنُ السُّكَّ بِعَرَقِهِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَاسْتَوْهَبْتُ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنْ ذَلِكَ السُّكِّ، فَوَهَبَتْ لِي مِنْهُ، فَلَمَّا مَاتَ مُحَمَّدٌ حَنَّطَ بِذَلِكَ السُّكِّ، وَكَانَ مُحَمَّدٌ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَنِّطَ الْمَيِّتَ بِالسُّكِّترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ میرے پاس قیلولہ فرماتے تھے، تو میں آپ ﷺ کے لیے ایک چمڑے کا فرش بچھا دیتی، آپ ﷺ اس پر آرام فرماتے تو پسینہ آ جاتا، میں اس پسینے سے مشک ملا کر خوشبو تیار کیا کرتی تھی۔“ محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے اس مشک میں سے کچھ مانگا تو انہوں نے مجھے دے دیا، پھر جب محمد (بن سیرین) کا انتقال ہوا تو انہیں اسی مشک سے حنوط کیا گیا، اور محمد کو یہ بات پسند تھی کہ میت کو مشک کے ساتھ حنوط کیا جائے۔