کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ ام سلیم بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ، ان کے احوال میں سے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَتْ: «أَمَا إِنِّي فِيكَ لَرَاغِبَةٌ، وَمَا مِثْلُكَ يُرَدُّ، وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ وَأَنَا امْرأَةٌ مُسْلِمَةٌ، فِإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ» ، وَتَزَوَّجَهَا أَبُو طَلْحَةَ
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا: ”میں تو آپ کو پسند کرتی ہوں، اور آپ جیسے شخص کو رد نہیں کیا جاتا، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں۔ اگر آپ اسلام لے آئیں تو یہی میرا مہر ہوگا، میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گی۔“ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْفِطْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامُ، أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ، فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ: «إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فِإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ» ، فَأَسْلَمَ فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامُ
ترجمہ
… سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اور ان دونوں کے درمیان مہر اسلام لانا تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ سے پہلے مسلمان ہو چکی تھیں، تو انہوں نے پیغامِ نکاح بھیجا، جس پر انہوں نے کہا: ”میں تو مسلمان ہو چکی ہوں، اگر آپ مسلمان ہو جائیں تو میں آپ سے نکاح کر لوں گی۔“ چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے، اور ان کے درمیان مہر اسلام لانا ہی تھا۔