المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم سليم بنت ملحان الأنصارية، أم أنس بن مالك من أخبارها باب: سیدہ ام سلیم بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21736
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْفِطْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامُ، أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ، فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ: «إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فِإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ» ، فَأَسْلَمَ فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامُترجمہ
… سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اور ان دونوں کے درمیان مہر اسلام لانا تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ سے پہلے مسلمان ہو چکی تھیں، تو انہوں نے پیغامِ نکاح بھیجا، جس پر انہوں نے کہا: ”میں تو مسلمان ہو چکی ہوں، اگر آپ مسلمان ہو جائیں تو میں آپ سے نکاح کر لوں گی۔“ چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے، اور ان کے درمیان مہر اسلام لانا ہی تھا۔