المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم سليم بنت ملحان الأنصارية، أم أنس بن مالك من أخبارها باب: سیدہ ام سلیم بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21735
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَتْ: «أَمَا إِنِّي فِيكَ لَرَاغِبَةٌ، وَمَا مِثْلُكَ يُرَدُّ، وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ وَأَنَا امْرأَةٌ مُسْلِمَةٌ، فِإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ» ، وَتَزَوَّجَهَا أَبُو طَلْحَةَترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا: ”میں تو آپ کو پسند کرتی ہوں، اور آپ جیسے شخص کو رد نہیں کیا جاتا، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں۔ اگر آپ اسلام لے آئیں تو یہی میرا مہر ہوگا، میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گی۔“ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا۔