کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوفاختہ، سعید بن علاقہ، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَى عَلِيٍّ، فَرَاحَ عَلِيٌّ وَهِيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «لَا أَرْضَى لَكَ مَا لَا أَرْضَى لِنَفْسِي، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَجْعَلُها خُمْرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ اسے پہن کر شام کو نکلے، تو رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو چیز میں اپنے لیے پسند نہیں کرتا وہ تمہارے لیے بھی پسند نہیں کرتا، میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا، بلکہ اس لیے دیا کہ تم اسے فاطماؤں (یعنی فاطمہ نام کی عورتوں) کے درمیان دوپٹے بنا دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَمِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ قَدْ عَلَاهُ الْغُبَارُ، فَأَمَرَ بِقَصْعَةٍ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ، فَسَكَبْتُ فِيهَا، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فِيمَا بَيْنِي، وَبَيْنَهُ فَسُتِرَ، وَقَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَالَ مُجَاهِدٌ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: «هِيَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ»
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ سعید سے، وہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ پر گرد و غبار چھایا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوایا، گویا میں اس میں آٹے کا نشان دیکھ رہی ہوں، تو میں نے اس میں پانی ڈالا، پھر آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کرنے کا حکم دیا تو پردہ کیا گیا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے اوپر پانی بہایا، پھر کھڑے ہو کر چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ مجاہد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صلاۃ الاشراق ہے۔“