حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا بِي عَنْكَ رَغْبَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنْ لَا أُحِبُّ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَبَنِيَّ صِغَارٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ؟ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے کوئی بے رغبتی نہیں، لیکن میں نہیں چاہتی کہ نکاح کروں جبکہ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں، جو بچپن میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان اور شوہر کے مال میں سب سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَابِتٍ الثُّمَالِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عِنْدَكِ شَيْءٌ؟» ، قُلْتُ: لَا، إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ، فَقَالَ: «مَا أَفْقَرَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، سوائے کچھ خشک روٹی کے ٹکڑوں اور سرکے کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ گھر کبھی محتاج نہیں جس میں سالن کے طور پر سرکہ موجود ہو۔“