کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدہ سلمیٰ بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا، ام منذر، جو نبی کریم ﷺ کی خالاؤں میں سے تھیں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ - قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِي، وَلَا نَقْتُلْ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِي بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيَهُ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ، قَالَ: «وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ» قَالَتْ: فَبَايَعْنَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ: ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللهِ: مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا مِنْ أَمْوَالِ أَزْوَاجِنَا؟ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُجَاوِزُ بِهِ غَيْرَهُ» ،
ترجمہ
روایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے ہم سے یہ شرط لی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی، اور کسی نیک کام میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اور اپنے شوہروں کو دھوکہ نہ دینا۔“ چنانچہ ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی، پھر واپس چلیں، تو میں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: واپس جاؤ اور رسول اللہ ﷺ سے پوچھو کہ ہمارے شوہروں کے مال میں سے ہم پر کیا حرام کیا گیا ہے؟ اس نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اس کا مال لے کر بغیر اجازت کسی اور کو دے دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21121
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 296، حدیث 751
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ بَايَعَهُ مِنَ النِّسَاءِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يُذْكَرْ فِي الْإِسْنَادِ الْحَكَمَ بْنَ سُلَيْمٍ
ترجمہ
سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان عورتوں میں شامل ہو کر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی جنہوں نے آپ ﷺ سے بیعت کی — پھر راوی نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21122
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 296، حدیث 752
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرِضٍ، وَفِي الْبَيْتِ عِذْقٌ مُعَلَّقٌ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ وَهُوَ قَائِمٌ، وَعَلِيٌّ مَعَهُ، فَقَالَ: «لَا تَأْكُلْ مِنْ ذَا فَإِنَّهُ لَا يُوَافِقُكَ» فَجَلَسَ فَصَنَعْتُ لَهُ سِلْقًا، وَشَعِيرًا فَقَالَ: «كُلْ مِنْ هَذَا فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ»
ترجمہ
روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بیماری سے نقاہت کی حالت میں تھے، اور گھر میں کھجور کا ایک خوشہ لٹکا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے اس میں سے کھایا، اور علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، تو آپ ﷺ نے علی سے فرمایا: ”اس میں سے مت کھاؤ، یہ تمہارے لیے موافق نہیں۔“ چنانچہ وہ بیٹھ گئے، پھر میں نے ان کے لیے ساگ اور جَو پکایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ موافق ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21123
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 297، حدیث 753