المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سلمى بنت قيس أم المنذر الأنصارية " إحدى خالات رسول الله صلى الله عليه وسلم " باب: سیدہ سلمیٰ بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا، ام منذر، جو نبی کریم ﷺ کی خالاؤں میں سے تھیں
حدیث نمبر: 21123
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرِضٍ، وَفِي الْبَيْتِ عِذْقٌ مُعَلَّقٌ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ وَهُوَ قَائِمٌ، وَعَلِيٌّ مَعَهُ، فَقَالَ: «لَا تَأْكُلْ مِنْ ذَا فَإِنَّهُ لَا يُوَافِقُكَ» فَجَلَسَ فَصَنَعْتُ لَهُ سِلْقًا، وَشَعِيرًا فَقَالَ: «كُلْ مِنْ هَذَا فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ»ترجمہ
سیدہ ام منذر انصاریہ رضی اللہ عنہا، جو رسول اللہ ﷺ کی خالاؤں میں سے ایک تھیں، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، اور علی رضی اللہ عنہ بیماری سے نقاہت کی حالت میں تھے، اور گھر میں کھجور کا ایک خوشہ لٹکا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے اس میں سے کھایا، اور علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، تو آپ ﷺ نے علی سے فرمایا: ”اس میں سے مت کھاؤ، یہ تمہارے لیے موافق نہیں۔“ چنانچہ وہ بیٹھ گئے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر کا ساگ اور جَو پکایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ موافق ہے۔“