کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا؛ سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی مرویات
❮
❯
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُمَا: كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ يَسْأَلَانِهَا: عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا أَنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ، فَهُيِّأَتْ لِطَلَبِ الْخَيْرِ، فَمَرَّ بِهَا أَبو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ اعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِي فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي»
ترجمہ
مسروق اور عمرو بن عتبہ رحمہما اللہ نے سیدہ سُبَیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھ کر ان کے معاملے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے انہیں لکھا کہ انہوں نے اپنے شوہر کی وفات کے پچیس (دن) بعد بچہ جنا، پھر وہ خیر (یعنی نکاح) کی طلب کے لیے تیار ہوئیں، تو ان کے پاس سے ابوالسنابل بن بعکک گزرے اور کہا: تم نے جلدی کر دی، دونوں مدتوں میں سے آخری، یعنی چار مہینے دس دن، عدت گزارو۔ (سُبَیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے استغفار کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا بات ہے؟“ میں نے آپ ﷺ کو ساری بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں کوئی نیک شوہر مل جائے تو نکاح کر لو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21115
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 293، حدیث 745
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ فَلَبِثْتُ بَعْدَهُ شَهْرَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَتُ مَا فِي بَطْنِي، فَمَرَّ أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَدَخَلَ عَلَى حَمَوَيَّ، وَقَدْ كَانَ يُرِيدُنِي لِنَفْسِهِ، وَقَدْ تَهَيَّأَتُ لِلنِّكَاحِ وتَحَصَّنْتُ، فَقَالَ: مَا لَكِ يَا سُبَيْعَةُ؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ التَّزَوُّجَ، قَالَ: لَا وَاللهِ إِنَّهُ لأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي، وَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي»
ترجمہ
سیدہ سُبَیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ہوتے ہوئے) فوت ہو گئے۔ میں ان کے بعد دو مہینے ٹھہری، پھر میں نے اپنے پیٹ کا بچہ جن دیا۔ پھر بنو عبدالدار کے ابوالسنابل بن بعکک گزرے اور میرے دو سسرالی رشتہ داروں کے پاس آئے، اور وہ مجھ سے خود نکاح کرنا چاہتے تھے، اور میں نکاح کے لیے تیار ہو چکی تھی اور (نکاح کے ذریعے) پاک دامنی چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا: اے سُبَیعہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، عدت تو چار مہینے دس دن ہی ہے۔ تو میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ آپ ﷺ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عدت پوری ہو چکی ہے، نکاح کر لو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 293، حدیث 746
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ، فَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ سُبَیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو مدینہ میں مرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ وہیں مرے، کیونکہ جو بھی وہاں فوت ہو گا میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ بنوں گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21117
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 294، حدیث 747
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ يَذْكُرُ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ: كَتَبَ إِلَى ابْنِ الْأَرْقَمِ أَنْ سَلْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ: كَيْفَ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا؟ فَقَالَتْ: «أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ»
ترجمہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن ارقم کو لکھا کہ سُبَیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو: جب ان کے شوہر فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں کیا حکم دیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ جب میں بچہ جن لوں تو نکاح کر لوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21118
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 294، حدیث 748
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ: أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلُهَا عَنْ حَدِيثِهَا، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْقَطَتْ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، تُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهِيَ حَامِلٌ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً؟ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلِيَّ ثِيَابِي حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، «فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ يَوْمَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي»
ترجمہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر حکم دیا کہ وہ سُبَیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ پوچھیں، اور یہ بھی کہ جب ان کا حمل وضع ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کیا فرمایا تھا۔ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھ کر بتایا کہ سُبَیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جو بنو عامر سے تھے اور بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، وہ حجۃ الوداع میں فوت ہو گئے جبکہ وہ حاملہ تھیں، پھر انہوں نے ان کی وفات کے بعد بچہ جنا۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا، تو بنو عبدالدار کے ایک شخص ابوالسنابل بن بعکک ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں بنی سنوری دیکھ رہا ہوں؟ شاید تم نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم پر چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ سیدہ سُبَیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب اس نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سنبھالے یہاں تک کہ شام ہو گئی، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، ”تو آپ ﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں اپنا بچہ جننے کے دن ہی عدت سے نکل چکی ہوں، اور مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو نکاح کر لوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21119
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 295، حدیث 749
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلُهَا عَمَّا أَفْتَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا قَبْلَ أَنْ يَمْضِي لَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا مِنْ وَفَاتِهِ، فَلَقِيَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ حِينَ تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا، وَقَدِ اكْتَحَلَتْ، فَقَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ، إِنَّهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ مِنْ وَفَاةِ زَوْجِكِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ»
ترجمہ
عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مروان نے عبداللہ بن عتبہ کو سُبَیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کیا فتویٰ دیا تھا۔ تو انہوں نے بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ حجۃ الوداع میں فوت ہو گئے، اور وہ بدری تھے، پھر ان کی وفات سے چار مہینے دس دن گزرنے سے پہلے ہی انہوں نے بچہ جن دیا۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں اور سرمہ لگا رکھا تھا تو ابوالسنابل بن بعکک ان سے ملے اور کہا: شاید تم نکاح کرنا چاہتی ہو، (عدت تو) تمہارے شوہر کی وفات سے چار مہینے دس دن ہے۔ (سُبَیعہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور ابوالسنابل کی بات آپ ﷺ کو بتائی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنا بچہ جنتے ہی عدت سے نکل چکی ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21120
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 295، حدیث 750