حدیث نمبر: 21121
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ - قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِي، وَلَا نَقْتُلْ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِي بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيَهُ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ، قَالَ: «وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ» قَالَتْ: فَبَايَعْنَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ: ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللهِ: مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا مِنْ أَمْوَالِ أَزْوَاجِنَا؟ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُجَاوِزُ بِهِ غَيْرَهُ» ،
ترجمہ

روایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے ہم سے یہ شرط لی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی، اور کسی نیک کام میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اور اپنے شوہروں کو دھوکہ نہ دینا۔“ چنانچہ ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی، پھر واپس چلیں، تو میں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: واپس جاؤ اور رسول اللہ ﷺ سے پوچھو کہ ہمارے شوہروں کے مال میں سے ہم پر کیا حرام کیا گیا ہے؟ اس نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اس کا مال لے کر بغیر اجازت کسی اور کو دے دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21121
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 296، حدیث 751