کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کی زوجہ، ان کے احوال میں سے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا، وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ، وَقَدْ عَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں، اور وہ اس عمر کو پہنچ چکے ہیں جس عمر کو مرد پہنچتے ہیں، اور وہ وہی کچھ جانتے ہیں جو مرد جانتے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے دودھ پلاؤ، تم اس پر حرام ہو جاؤ گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ حُذَيْفَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلِيَّ وَأَنَا وَاضِعَةٌ ثَوْبِي، فَأَجِدُ فِي نَفْسِي فَقَالَ: «أَرْضِعِيهِ يَذْهَبُ عَنْكِ الَّذِي تَجِدِينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم میرے پاس آتے ہیں جبکہ میں نے اپنا (اوپر کا) کپڑا اتارا ہوتا ہے، تو مجھے دل میں ناگواری محسوس ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو، جو ناگواری تم محسوس کرتی ہو وہ دور ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا لِيُذْهِبَ مَا فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ سالم کو دودھ پلائیں تاکہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل کی وہ بات دور ہو جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ أَمَرِ سَالِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَبِيرٌ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «أَلَيْسَ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ؟» قَالَتْ: فَفَعَلَتْ، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ، مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سالم کے معاملے میں ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ تو بڑا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”کیا مجھے نہیں معلوم کہ وہ مرد ہے؟“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: چنانچہ انہوں نے ایسا کر لیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت بخشی جو بخشی ہے، (اب) میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر کچھ (ناگواری) نہیں دیکھی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعُمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثَهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَإِنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ كَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللهُ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي وَأَنَا فَضْلٌ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَمَا تَرَى فِي شَأْنِهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَأَرْضَعَتُهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيُحَرَّمُ بِهِنَّ وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، زوجۂ نبی کریم ﷺ، سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ اور جاہلیت میں جو شخص کسی کو منہ بولا بیٹا بناتا، لوگ اسے اسی کی نسبت سے پکارتے اور وہ اس کی میراث پاتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا: ﴿انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں﴾ [الاحزاب: 5] چنانچہ انہیں ان کے باپوں کی طرف لوٹا دیا گیا، اور جس کا باپ معلوم نہ تھا وہ مولیٰ (دینی بھائی اور دوست) قرار پایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی عامری رضی اللہ عنہا، جو ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سالم کو بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا، اور مجھے گھریلو کام کاج کے کپڑوں میں دیکھتا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان (منہ بولے بیٹوں) کے بارے میں جو کچھ نازل فرمایا ہے وہ آپ کو معلوم ہے، تو یا رسول اللہ! آپ اس کے معاملے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پانچ بار دودھ پلایا جس سے وہ محرم ہو گیا، اور وہ ان کے لیے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا۔