حدیث نمبر: 21110
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ أَمَرِ سَالِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَبِيرٌ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «أَلَيْسَ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ؟» قَالَتْ: فَفَعَلَتْ، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ، مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا
ترجمہ

روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سالم کے معاملے میں ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ تو بڑا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”کیا مجھے نہیں معلوم کہ وہ مرد ہے؟“ چنانچہ انہوں نے ایسا کر لیا، پھر وہ ابوحذیفہ کے پاس آئیں اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ عزت بخشی، اب میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر کچھ ناگواری نہیں دیکھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21110
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 290، حدیث 740