کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْهُ: أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ، حُدِّثَتْ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، بَلَغَ مِنْهَا ضَرْبًا لَا يَدْرِي مَا هُوَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ مِنْهَا» فَقَالَتْ أَمَا أَنَّ الَّذِي أَعْطَانِي عِنْدِي كَمَا هُوَ قَالَ: «فَخُذْ مِنْهَا» فَأَخَذَ مِنْهَا، قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَعَدَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا ،
ترجمہ
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کیا گیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے انہیں اس قدر مارا کہ معلوم نہیں وہ کس حد تک تھا، تو وہ صبح کے دھندلکے میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور اپنی کیفیت آپ ﷺ کو بتائی، تو نبی کریم ﷺ نے (ثابت سے) فرمایا: ”اس سے لے لو۔“ انہوں نے کہا: سنیے! جو کچھ انہوں نے مجھے دیا تھا وہ میرے پاس جوں کا توں موجود ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے لے لو۔“ چنانچہ ثابت نے ان سے لے لیا۔ عمرہ کہتی ہیں: پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھ گئیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ، حُدِّثَتْ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں یہی واقعہ پیش آیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ، امْرَأَةٍ كَانَتْ هَمَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُزَوِّجَهَا فَخَطَبَهَا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَتَزَوَّجَهَا، وَكَانَ فِي خُلُقِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ شِدَّةٌ فَضَرَبَهَا فَأَصْبَحَتْ بِالْغَلَسِ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٍ، فَجَاءَ ثَابِتٌ فِي أَثَرِهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَرَبْتَهَا؟» فَقَالَ: نَعَمْ، ضَرَبْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ مِنْهَا» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي كُلَّ مَا أَعْطَانِيهِ، قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِهَا "
ترجمہ
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ایک ایسی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرنے کا ارادہ فرمایا تھا، پھر ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام دیا اور ان سے شادی کر لی، ثابت بن قیس کے مزاج میں سختی تھی، انہوں نے انہیں مارا تو وہ صبح کے دھندلکے میں رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر آ گئیں، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں حبیبہ ہوں، نہ میں (ثابت کے ساتھ رہ سکتی ہوں) اور نہ ثابت (میرے ساتھ)، پھر ثابت بھی ان کے پیچھے آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے مارا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے اسے مارا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے لے لو۔“ حبیبہ نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ انہوں نے مجھے دیا تھا وہ سب میرے پاس موجود ہے، چنانچہ ثابت نے ان سے لے لیا اور وہ اپنے گھر میں بیٹھ گئیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنِ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ وَلَوْلَا مَخَافَةُ اللهِ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ خَلَعٍ فِي الْإِسْلَامِ "
ترجمہ
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، تو انہیں ان سے نفرت ہو گئی، اور ثابت بدصورت آدمی تھے۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! جب میں انہیں دیکھتی ہوں تو اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں وہ باغ واپس کرو گی جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ثابت کی طرف کسی کو بھیجا، چنانچہ حبیبہ نے وہ باغ انہیں واپس کر دیا اور آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی، اور یہ اسلام میں پہلا خلع تھا۔