المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حبيبة بنت سهل امرأة ثابت بن قيس بن شماس باب: سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنِ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ وَلَوْلَا مَخَافَةُ اللهِ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ خَلَعٍ فِي الْإِسْلَامِ "سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، تو انہیں ان سے نفرت ہو گئی، اور ثابت بدصورت آدمی تھے۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! جب میں انہیں دیکھتی ہوں تو اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں وہ باغ واپس کرو گی جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ثابت کی طرف کسی کو بھیجا، چنانچہ حبیبہ نے وہ باغ انہیں واپس کر دیا اور آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی، اور یہ اسلام میں پہلا خلع تھا۔