حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي فَأَصَابَتْهَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ - الْجُدَرِيُّ أَوِ الْحَصْبَةُ - فَسَقَطَ شَعْرُهَا، وَقَدْ صَحَّتْ وَاسْتَحَثَّنَا بِهَا زَوْجُهَا وَلَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا شَعْرٌ، فَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
ترجمہ
”… اور وہ صحت یاب ہو چکی تھی اور اس کے شوہر نے ہم سے اس کی بابت جلدی مچائی، جبکہ اس کے سر پر بال نہیں تھے، تو کیا ہم اس کے سر پر کچھ ایسی چیز لگا دیں جس سے وہ خوبصورت لگے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَةً تَسْأَلُهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي فَأَصَابَتْهَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ - الْجُدَرِيُّ أَوِ الْحَصْبَةُ - فَسَقَطَ مِنْهَا شَعَرُهَا، ثُمَّ قَدْ صَحَّتْ وَقَدِ اسْتَحَثَّنَا بِهَا زَوْجُهَا، وَلَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا شَعَرٌ أَفَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
ترجمہ
”…اسے یہ بیماری - چیچک یا خسرہ - لگ گئی جس سے اس کے بال جھڑ گئے، پھر وہ صحت یاب ہو گئی اور اس کے شوہر نے ہم سے اس کی بابت جلدی مچائی، جبکہ اس کے سر پر بال نہیں تھے، تو کیا ہم اس کے سر پر کچھ ایسی چیز لگا دیں جس سے وہ خوبصورت لگے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْهُ امْرَأَةٌ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ ثِيَابَهَا، فَقَالَ: «اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ ثُمَّ انْضَحِيهِ فِي سَائِرِ ثَوْبِكِ وَصَلِّي فِيهِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، ایک عورت نے آپ ﷺ سے کپڑوں پر لگے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی سے دھو لو، پھر اپنے باقی کپڑے پر چھینٹے مارو اور اس میں نماز پڑھ لو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا سَمِعْتِ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ضَرَّةً وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَا يُصِيبُنِي أَغِيظُهَا بِذَلِكَ، فَهَلْ عَلَى فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے سنا، اس نے عرض کیا: میری ایک سوکن ہے اور میں اپنے شوہر کی طرف سے ایسی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرتی ہوں جو مجھے نہیں ملتی، تاکہ اسے غصہ دلاؤں، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نہ دی گئی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے جیسا ہے۔“