❮
❯
حدیث نمبر: 20719
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَةً تَسْأَلُهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي فَأَصَابَتْهَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ - الْجُدَرِيُّ أَوِ الْحَصْبَةُ - فَسَقَطَ مِنْهَا شَعَرُهَا، ثُمَّ قَدْ صَحَّتْ وَقَدِ اسْتَحَثَّنَا بِهَا زَوْجُهَا، وَلَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا شَعَرٌ أَفَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
ترجمہ

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فاطمہ بنت منذر سے، وہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا جبکہ ایک عورت آپ سے سوال کر رہی تھی، اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اسے یہ بیماری - چیچک یا خسرہ - لگ گئی جس سے اس کے بال جھڑ گئے، پھر وہ صحت یاب ہو گئی اور اس کے شوہر نے ہم سے اس کی بابت جلدی مچائی، جبکہ اس کے سر پر بال نہیں تھے، تو کیا ہم اس کے سر پر کچھ ایسی چیز لگا دیں جس سے وہ خوبصورت لگے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20719
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 128، حدیث 348