حدیث نمبر: 20722
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا سَمِعْتِ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ضَرَّةً وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَا يُصِيبُنِي أَغِيظُهَا بِذَلِكَ، فَهَلْ عَلَى فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے سنا، اس نے عرض کیا: میری ایک سوکن ہے اور میں اپنے شوہر کی طرف سے ایسی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرتی ہوں جو مجھے نہیں ملتی، تاکہ اسے غصہ دلاؤں، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نہ دی گئی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے جیسا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20722
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 128، حدیث 351