المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
محمد بن إسحاق، عن فاطمة بنت المنذر باب: محمد بن اسحاق کی فاطمہ بنت منذر سے روایات
حدیث نمبر: 20718
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي فَأَصَابَتْهَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ - الْجُدَرِيُّ أَوِ الْحَصْبَةُ - فَسَقَطَ شَعْرُهَا، وَقَدْ صَحَّتْ وَاسْتَحَثَّنَا بِهَا زَوْجُهَا وَلَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا شَعْرٌ، فَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»ترجمہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فاطمہ بنت منذر سے، وہ اپنی دادی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: میں نے ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے سنا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، تو اسے یہ زخم - چیچک یا خسرہ - لگ گیا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، اور وہ صحت یاب ہو چکی تھی اور اس کے شوہر نے ہم سے اس کی بابت جلدی مچائی، جبکہ اس کے سر پر بال نہیں تھے، تو کیا ہم اس کے سر پر کچھ ایسی چیز لگا دیں جس سے وہ خوبصورت لگے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“