کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: نافع بن عمر کی ابن ابی ملیکہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي عَلَى حَوْضِي حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيْكُمْ مِنِّي، وَسَيَرِدُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللهِ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُغِيرَ دِينَنَا»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”… اور میرے بعد کچھ لوگ حوض پر آئیں گے، تو میں عرض کروں گا: اے رب! میری امت، میری امت! تو فرمایا جائے گا: کیا تمہیں معلوم ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا؟ اللہ کی قسم وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے (یعنی مرتد ہوتے رہے)۔“ تو ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائیں یا اپنا دین بدل ڈالیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20622
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 94، حدیث 251
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، بِإِسْنَادِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: " قَدْ قُرِّبَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ أنِّي اخْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ: أَيْ رَبِّ، وَأَنَا مَعَهُمْ، فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسْنَاءَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، لَا أَطْعَمَتْهَا وَلَا أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ " قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ قَالَ: «مِنْ حَشِيشٍ أوْحَشَائِشِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”… اور میں بھی ان کے ساتھ تھی، تو ایک خوبصورت عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: اس نے اسے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ اسے کھلایا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ کھا لے۔“ نافع کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہا: ”زمین کی گھاس پھونس میں سے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20623
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 94، حدیث 252
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ لِي مَالٌ إِلَّا مَا يُدْخِلُ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ، أَفَأَرْضَخُ مِنْهُ؟ قَالَ: «ارْضَخِي بِمَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوكِي فَيُوكِي اللهُ عَلَيْكِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یا رسول اللہ! میرے پاس اس کے سوا کوئی مال نہیں جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، تو کیا میں اس میں سے تھوڑا تھوڑا صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنی استطاعت ہو تھوڑا تھوڑا دیتی رہو، اور تھیلی کا منہ بند نہ رکھو، ورنہ اللہ تم پر بند کر دے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20624
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 95، حدیث 253