❮
❯
حدیث نمبر: 20623
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، بِإِسْنَادِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: " قَدْ قُرِّبَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ أنِّي اخْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ: أَيْ رَبِّ، وَأَنَا مَعَهُمْ، فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسْنَاءَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، لَا أَطْعَمَتْهَا وَلَا أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ " قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ قَالَ: «مِنْ حَشِيشٍ أوْحَشَائِشِ الْأَرْضِ»
ترجمہ

یحییٰ بن ایوب اور عمرو بن ابی طاہر رحمہما اللہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسوف (سورج/چاند گرہن) کی نماز پڑھی، آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو قیام لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع لمبا کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا تو سجدہ لمبا کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا تو سجدہ لمبا کیا، پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ”میرے قریب جنت کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اس پر جرات کرتا تو تمہارے پاس اس کے پھلوں میں سے ایک گچھا لے آتا، اور میرے قریب جہنم کر دی گئی یہاں تک کہ میں نے کہا: اے میرے رب! کیا میں بھی ان کے ساتھ (اس میں) ہوں؟ تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت عورت کو ایک بلی نوچ رہی ہے، میں نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: اس نے اسے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ اسے کھلایا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ (خود) کھا لے۔“ نافع کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین کی گھاس پھونس میں سے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20623
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 94، حدیث 252