کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حدمر، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ، مَوْلَى زَيْنَبَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَائِمًا عِنْدَهَا وَحُسَيْنٌ يَحْبُو فِي الْبَيْتِ، فَغَفَلَتْ عَنْهُ فَحَبَا حَتَّى بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَدَ عَلَى بَطْنِهِ، ثُمَّ وَضَعَ ذَكَرَهُ فِي سُرَّتِهِ، قَالَتْ: وَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَحَطَطْتُهُ عَنْ بَطْنِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعِي ابْنِي» فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَخَذَ كُوزًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ يُصَبُّ مِنَ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ» قَالَتْ: تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَاحْتَضَنَهُ، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَسَجَدَ وَضَعَهُ، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهُ، فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ الْيَوْمَ شَيْئًا مَا رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُ، قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي وَأَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي يُقْتَلُ» قُلْتُ: فَأَرِنِي إِذًا فَأَتَانِي تُرْبَةً حَمْرَاءَ
ترجمہ
...پھر وہ بچہ آپ ﷺ کے پیٹ پر چڑھ گیا اور اپنا عضو آپ ﷺ کی ناف میں رکھ دیا، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو میں نے اٹھ کر اسے آپ ﷺ کے پیٹ سے اتارا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔“ پھر جب اس نے پیشاب کر لیا تو آپ ﷺ نے پانی کا ایک برتن لے کر اس پر چھڑک دیا، پھر فرمایا: ”لڑکے کا پیشاب چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کا دھویا جاتا ہے۔“ وہ کہتی ہیں: پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، اور اسے گود میں لے لیا، تو جب رکوع و سجدہ کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے، پھر جب بیٹھے تو دعا کرنے لگے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمانے لگے، پھر جب نماز پوری کی تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آج آپ ﷺ کو ایسا کام کرتے دیکھا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل میرے پاس آئے اور مجھے بتایا کہ میرا یہ بیٹا قتل کیا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: تو مجھے وہ جگہ دکھائیے، تو میرے پاس سرخ مٹی لائی گئی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهَ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمُ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا» وَعَقَدَ بِيَدِهِ يَعْنِي عَشَرَةً، قَالَتْ زَيْنَبُ: فَقُلْتُ: نَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ»
ترجمہ
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا کھول دیا گیا ہے“ اور اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے عرض کیا: کیا ہم اس حال میں ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَوَجْهُهَا مُحْمَرٌّ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَضَرَبَنِي بِمَجَسَّةٍ مَعَهُ - فَقُلْتُ: إِيشِ الْمَجَسَّةُ؟ قَالَتْ: السَّعَفُ الْأَبْيَضُ - فَقَالَ: «هَذَا وَاللهِ أَوَانٌ نَزَلَتِ الْفِتَنُ الْعِظَامُ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، ثُمَّ يُنَجَّى الَّذِينَ اتَّقُوا»
ترجمہ
...تو میں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں سوئی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ موجود ایک چھڑی سے مجھے چھوا (راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: وہ چھڑی کیا تھی؟ انہوں نے بتایا: سفید کھجور کی چھڑی) پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ وہ وقت ہے جب بڑے بڑے فتنے نازل ہوئے ہیں۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پھر جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں وہ نجات پا جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: «كَانَ لَنَا مِخْضَبٌ مِنْ صُفْرٍ كُنْتُ أُرَجِّلُ فِيهِ رَأْسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہمارے پاس پیتل کا ایک برتن تھا، میں اس میں نبی کریم ﷺ کے سر مبارک میں کنگھی کیا کرتی تھی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ مُوسَى، وَسُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالُوا: أَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ امْرَأَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ، فَقَالَ: «تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ، وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کی ایک زوجہ کے بارے میں سوال کیا، اور بتایا کہ وہ مستحاضہ ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے ایام میں رکی رہے، پھر غسل کرے اور ظہر مؤخر اور عصر جلدی پڑھے اور دونوں کے لیے ایک ہی غسل کرے، اور مغرب مؤخر اور عشاء جلدی پڑھے اور دونوں کے لیے غسل کرے، اور فجر کے لیے الگ غسل کرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ زَيْنَبَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ النِّسَاءَ خِطَطَهُنَّ»
ترجمہ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو ان کے رہائشی قطعاتِ زمین کا وارث بنایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَدْمَرٍ، مَوْلَى لِبَنِي عَبْسٍ، عَنْ مَوْلَى لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: تَقَيَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، إِذْ أَقْبَلَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ غُلَامٌ حَتَّى جَلَسَ عَلَى بَطْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ ذَكَرَهُ فِي سُرَّتِهِ، قَالَتْ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «ائْتِينِي بِمَاءٍ» فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «يُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ، وَيُصَبُّ عَلَيْهِ مِنَ الْغُلَامِ»
ترجمہ
...کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بچپن میں آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پیٹ پر بیٹھ گئے، پھر اپنا عضو آپ ﷺ کی ناف میں رکھ دیا، وہ کہتی ہیں: تو میں ان کی طرف اٹھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس پانی لاؤ۔“ تو میں پانی لائی اور آپ ﷺ نے اسے بچے پر بہا دیا، پھر فرمایا: ”لڑکی کا پیشاب لگا کپڑا دھویا جاتا ہے، اور لڑکے پر پانی بہایا جاتا ہے۔“