المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حدمر مولى زينب، عن زينب باب: حدمر، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 20514
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَوَجْهُهَا مُحْمَرٌّ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَضَرَبَنِي بِمَجَسَّةٍ مَعَهُ - فَقُلْتُ: إِيشِ الْمَجَسَّةُ؟ قَالَتْ: السَّعَفُ الْأَبْيَضُ - فَقَالَ: «هَذَا وَاللهِ أَوَانٌ نَزَلَتِ الْفِتَنُ الْعِظَامُ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، ثُمَّ يُنَجَّى الَّذِينَ اتَّقُوا»ترجمہ
...تو میں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں سوئی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ موجود ایک چھڑی سے مجھے چھوا (راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: وہ چھڑی کیا تھی؟ انہوں نے بتایا: سفید کھجور کی چھڑی) پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ وہ وقت ہے جب بڑے بڑے فتنے نازل ہوئے ہیں۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پھر جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں وہ نجات پا جائیں گے۔“