المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حدمر مولى زينب، عن زينب باب: حدمر، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَوَجْهُهَا مُحْمَرٌّ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَضَرَبَنِي بِمَجَسَّةٍ مَعَهُ - فَقُلْتُ: إِيشِ الْمَجَسَّةُ؟ قَالَتْ: السَّعَفُ الْأَبْيَضُ - فَقَالَ: «هَذَا وَاللهِ أَوَانٌ نَزَلَتِ الْفِتَنُ الْعِظَامُ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، ثُمَّ يُنَجَّى الَّذِينَ اتَّقُوا»سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، تو میں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں سوئی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ موجود ایک چھڑی سے مجھے چھوا - راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: وہ چھڑی کیا تھی؟ انہوں نے بتایا: سفید کھجور کی چھڑی - پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ وہ وقت ہے جب بڑے بڑے فتنے نازل ہوئے ہیں۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پھر جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں وہ نجات پا جائیں گے۔“