کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ام حسن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات؛ حسن کی اپنی والدہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَمَّارٍ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَمَّارٍ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، أَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَثَرًا عِنْدَ صَدْرِهِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ، وَيَقُولُ: «اللهُمَّ الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ، فَلَمَّا رَآهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں غزوہ خندق کے دن عمار رضی اللہ عنہ کے سینے پر مٹی کا نشان نہیں بھولی، جبکہ وہ لوگوں کو مٹی کی ٹوکریاں دے رہے تھے، اور نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“ پھر جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”اے سمیہ کے بیٹے! تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سَهْلٍ السِّرَاجِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا فَضْلُ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا السَّاجِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مُوسَى الْمَرَئِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السِّرَاجُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَنْبَسَةُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ حَكِيمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُصَلِّي بَعْدَ وِتْرِهِ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُكَ؟، قَالَ: «طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ فَيُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ فَيَمْنَعُهُ وَيُخْسَفُ بِهِمْ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يَكْرَهُ فَيَجِيءُ مُكْرَهًا»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ ﷺ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ پڑھ رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا، انہیں ایک آدمی کی طرف بھیجا جائے گا، تو وہ مکہ آ جائے گا اور اسے بچا لے گا، اور انہیں دھنسا دیا جائے گا، ان سب کی ہلاکت کی جگہ ایک ہو گی مگر ان کے آنے کے راستے مختلف ہوں گے، ان میں سے کچھ لوگ ناپسند کرنے والے بھی ہوں گے مگر وہ مجبوراً آئیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْرَمٍ أَبُو قَتَادَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَرَأَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورۃ ”انا اعطیناک الکوثر“ پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مد پانی سے وضو کرتے اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ سُورَةَ الدَّمِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُبَاشِرُ بَعْدَ الثَّلَاثِ "
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حیض کے خون کی شدت کے ابتدائی تین دن قربت کو ناپسند فرماتے، پھر تین دن کے بعد قربت فرماتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى، وَعَبْدَانُ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَالِمٌ الْخَيَّاطُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ، يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ؟، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِذَا شَاءَ أَقَامَهُ وَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ یہ دعا اتنی کثرت سے کیوں مانگتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! ابنِ آدم کا دل رب العالمین کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اسے سیدھا رکھے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيَّانِ، قَالُوا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے، اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو رگڑ کر صاف کیا کرتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ، وَسَالِمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» أَقُولُ لَهُ: أَبْقِ لِي أَبْقِ لِي
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، میں آپ ﷺ سے کہتی: میرے لیے چھوڑ دیں، میرے لیے چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْخَارِكِيُّ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر رکعت میں تشہد اور رسولوں پر اور ان کی پیروی کرنے والے اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ {حُورٌ عِينٌ} [الواقعة: ٢٢] ، قَالَ: " حُورٌ: بِيضٌ، عِينٌ: ضِخَامُ الْعُيُونِ شُقْرُ الْجَرْدَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النُّسُورِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ} [الطور: ٢٤] ، قَالَ: «صَفَاؤُهُنَّ صَفَاءُ الدُّرِّ فِي الْأَصْدَافِ الَّتِي لَمْ تَمَسَّهُ الْأَيْدِي» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ} [الرحمن: ٧٠] ، قَالَ: «خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ، حِسَانُ الْوُجُوهِ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ} [الصافات: ٤٩] ، قَالَ: «رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي رَأَيْتِ فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ وَهُوَ الْعُرْفِيُّ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {عُرُبًا أَتْرَابًا} [الواقعة: ٣٧] ، قَالَ: «هُنَّ اللَّوَاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ رَمْضَاءَ شَمْطَاءَ خَلَقَهُنَّ اللهُ بَعْدَ الْكِبَرِ، فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى عُرُبًا مُتَعَشَّقَاتٍ مُحَبَّبَاتٍ، أَتْرَابًا عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ؟، قَالَ: «بَلْ نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَبِمَا ذَاكَ؟، قَالَ: " بِصَلَاتِهِنَّ وَصِيَامِهِنَّ وَعِبَادَتِهِنَّ اللهَ أَلْبَسَ اللهُ وُجُوهَهُنَّ النُّورَ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ بِيضَ الْأَلْوَانِ خُضْرَ الثِّيَابِ صَفْرَاءَ الْحُلِيِّ مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ يَقُلْنَ: أَلَا نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا طُوبَى لِمَنْ كُنَّا لَهُ وَكَانَ لَنَا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا مَنْ يَكُونُ زَوْجُهَا؟، قَالَ: " يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّهَا تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا فَتَقُولُ: أَيْ رَبِّ إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ مَعِي خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "
ترجمہ
… فرمایا: ”حور، سفید رنگ کی، عین، بڑی آنکھوں والی۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: ”گویا وہ چھپا کر رکھا گیا موتی ہیں“ [سورۃ الطور: 24]، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی صفائی اس موتی کی صفائی جیسی ہے جو سیپیوں میں ہو اور اسے ہاتھ نہ لگا ہو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: ”ان میں نیک سیرت، خوبصورت عورتیں ہوں گی“ [سورۃ الرحمن: 70]، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اخلاق میں اچھی، چہروں میں خوبصورت۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: ”گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں“ [سورۃ الصافات: 49]، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی نزاکت اس جھلی کی نزاکت جیسی ہے جو تم نے انڈے کے اندر، چھلکے کے قریب دیکھی ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: ”ہم عمر، محبت کرنے والیاں“ [سورۃ الواقعہ: 37]، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بوڑھی، آنکھوں سے کمزور اور سفید بالوں والی وفات پا چکی تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑھاپے کے بعد دوبارہ پیدا کیا، تو انہیں کنواریاں، محبت کرنے والیاں، پیاری بنا دیا، ہم عمر، ایک ہی پیدائش کی طرح۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورِ عین؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ دنیا کی عورتیں حورِ عین سے افضل ہیں، جیسے اوپر کا کپڑا اندر کے کپڑے سے افضل ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کس وجہ سے افضل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی نماز، روزے اور اللہ کی عبادت کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو نور اور ان کے جسموں کو ریشم پہنائے گا، سفید رنگ کی، سبز کپڑوں والی، زرد زیورات والی، ان کے عود دان موتیوں کے ہوں گے اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، وہ کہیں گی: خبردار! ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں، کبھی نہیں مریں گی، خبردار! ہم نعمتوں والیاں ہیں، کبھی تکلیف نہیں پائیں گی، خبردار! ہم مقیم ہیں، کبھی کوچ نہیں کریں گی، خبردار! ہم راضی ہیں، کبھی ناراض نہیں ہوں گی، خوشخبری ہو اس کے لیے جس کے لیے ہم ہوں اور جو ہمارا ہو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی عورت دو، تین یا چار شوہروں سے نکاح کرتی ہے، پھر فوت ہو کر جنت میں داخل ہوتی ہے، تو ان میں سے کون سا شوہر اس کے ساتھ داخل ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! اسے اختیار دیا جائے گا، تو وہ ان میں سے سب سے اچھے اخلاق والے کو منتخب کرے گی اور کہے گی: اے میرے رب! یہ دنیا میں میرے ساتھ سب سے اچھے اخلاق والا تھا، اسی سے میرا نکاح کر دے۔ اے ام سلمہ! حسنِ اخلاق دنیا و آخرت کی بھلائی لے جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَدَمِي، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ مِنْ ذَيْلِهَا شِبْرًا»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دامن میں سے ایک بالشت کے برابر ناپا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْرَمٍ أَبُو قَتَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْمَلِي وَلَا تَتَّكِلِي، فَإِنَّ شَفَاعَتِي لِلْهَالِكِينَ مِنْ أُمَّتِي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتی رہو اور صرف شفاعت پر بھروسا نہ کرو، کیونکہ میری شفاعت میری امت کے گناہ گاروں کے لیے ہے۔“