حدیث نمبر: 20163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُكَ؟، قَالَ: «طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ فَيُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ فَيَمْنَعُهُ وَيُخْسَفُ بِهِمْ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يَكْرَهُ فَيَجِيءُ مُكْرَهًا»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ ﷺ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ پڑھ رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا، انہیں ایک آدمی کی طرف بھیجا جائے گا، تو وہ مکہ آ جائے گا اور اسے بچا لے گا، اور انہیں دھنسا دیا جائے گا، ان سب کی ہلاکت کی جگہ ایک ہو گی مگر ان کے آنے کے راستے مختلف ہوں گے، ان میں سے کچھ لوگ ناپسند کرنے والے بھی ہوں گے مگر وہ مجبوراً آئیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20163
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 364، حدیث 861