المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم الحسن، عن أم سلمة، الحسن عن أمه باب: ام حسن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات؛ حسن کی اپنی والدہ سے روایات
حدیث نمبر: 20156
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، أَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَثَرًا عِنْدَ صَدْرِهِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ، وَيَقُولُ: «اللهُمَّ الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ، فَلَمَّا رَآهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں غزوہ خندق کے دن آپ ﷺ کے سینے پر (لگا ہوا) نشان نہیں بھولی، جبکہ آپ ﷺ لوگوں کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“ پھر جب آپ ﷺ نے انہیں (یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو) دیکھا تو فرمایا: ”اے سمیہ کے بیٹے! تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔“