المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم الحسن، عن أم سلمة، الحسن عن أمه باب: ام حسن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات؛ حسن کی اپنی والدہ سے روایات
حدیث نمبر: 20167
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى، وَعَبْدَانُ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَالِمٌ الْخَيَّاطُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ، يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ؟، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِذَا شَاءَ أَقَامَهُ وَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ یہ دعا اتنی کثرت سے کیوں مانگتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! ابنِ آدم کا دل رب العالمین کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اسے سیدھا رکھے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے۔“