کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لانا جبکہ وہاں ایک گانے والی لونڈی گا رہی تھی — باب
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ عَائِشَةَ قَيْنَتَانِ تُغَنِّيَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعٌ مُسَجًّى ثَوْبُهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَعِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا؟، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: «دَعْهُنَّ يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ»
ترجمہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جبکہ سیدہ عائشہ کے پاس منیٰ کے دنوں میں دو لونڈیاں گا رہی تھیں، اور نبی کریم ﷺ لیٹے ہوئے تھے اور اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے، اس پر ابوبکر نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ کام کیا جاتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے اپنا چہرہ (چادر سے) کھولا اور فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، اے ابوبکر! یہ عید کے دن ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيَّ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثٍ، يَوْمَ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عِبَادَ اللهِ أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَالْيَوْمُ عِيدُنَا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عید کے دن ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میرے پاس دو لونڈیاں یومِ بعاث کا تذکرہ کرتے ہوئے گا رہی تھیں، وہ دن جس میں اوس اور خزرج کے سردار قتل کیے گئے تھے۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے بندو! کیا رسول اللہ ﷺ کے پاس شیطان کی بانسری بجائی جا رہی ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور آج ہماری عید ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي يَوْمِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى، وَعِنْدَهَا قَيْنَتَانِ تُغَنِّيَانِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدُنَا هَذَا الْيَوْمُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، جبکہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن ان کے پاس تشریف فرما تھے، اور ان کے پاس دو گانے والی لونڈیاں گا رہی تھیں، تو ابوبکر نے کہا: ”شیطان کی بانسری؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں چھوڑ دو، اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور آج ہماری عید ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَ عِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَاهَا، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عید کے دن ان کے پاس دو لونڈیاں گا رہی تھیں جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس موجود تھے اور انہیں منع نہیں فرما رہے تھے۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں (سیدہ عائشہ کو) ڈانٹا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے۔“