المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب دخول النبي صلى الله عليه وسلم على عائشة وعندها قينة تغني باب: نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لانا جبکہ وہاں ایک گانے والی لونڈی گا رہی تھی — باب
حدیث نمبر: 19590
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيَّ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثٍ، يَوْمَ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عِبَادَ اللهِ أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَالْيَوْمُ عِيدُنَا»ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عید کے دن ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میرے پاس دو لونڈیاں یومِ بعاث کا تذکرہ کرتے ہوئے گا رہی تھیں، وہ دن جس میں اوس اور خزرج کے سردار قتل کیے گئے تھے۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے بندو! کیا رسول اللہ ﷺ کے پاس شیطان کی بانسری بجائی جا رہی ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور آج ہماری عید ہے۔“