المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب قصة التيمم، وأنه نزل بسبب عائشة باب: تیمم کا واقعہ، اور یہ کہ اس کا حکم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سبب نازل ہوا — باب
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَسَقَطَتْ مِنْ عُنُقِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رِجَالًا يَبْتَغُونَهَا فَابْتَغَوْهَا، فَوَجَدُوا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ طُهُورٍ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ الرُّخْصَةَ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا، فَوَاللهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ خَيْرًاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لیا تھا، وہ ان کی گردن سے گر گیا، تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی۔ آپ ﷺ نے کچھ آدمی اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجے، انہوں نے تلاش کیا اور پا لیا، لیکن اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹے اور یہ بات ذکر کی، تو اللہ نے رخصت نازل فرما دی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہیں جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! تم پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ تمہارے اور مومنوں کے لیے اس میں بھلائی رکھ دیتا ہے۔