حدیث نمبر: 19434
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ: سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرًا يَبْتَغُونَهُ، فَأَدْرَكَهُمُ الصُّبْحُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلُّوا بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ "، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ بِعَائِشَةَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَعَنَّيْتِيهُمْ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَهُ أَيُّوبُ أَيْضًا، فَلَمَّا نَزَلَ التَّيَمُّمُ سُرَّ بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا عَلِمْتُكِ لَمُبَارَكَةٌ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
ترجمہ

ہشام بن عروہ اپنے والد یا کسی اور سے بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گر گیا، تو نبی کریم ﷺ نے چند لوگوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ صبح ہو گئی جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، تو انہوں نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی، پھر نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ معمر کہتے ہیں: مجھے ایوب نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے تو کہا: تم نے لوگوں کو روک دیا اور انہیں تکلیف دی۔ معمر کہتے ہیں: ہشام نے اپنے والد سے اور ایوب نے بھی یہی بیان کیا کہ جب تیمم کی آیت نازل ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر خوش ہوئے اور فرمایا: مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تم کتنی بابرکت ہو، تم پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ اس میں مسلمانوں کے لیے کوئی بھلائی رکھ دیتا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19434
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 49، حدیث 130