حدیث نمبر: 19433
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدِي، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: مَا نَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَعَاتَبَنِي وَقَالَ لِي مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعَنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ نبی کریم ﷺ اسے تلاش کرنے کے لیے وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ٹھہر گئے، جبکہ ان کے پاس پانی نہ تھا۔ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: دیکھیے عائشہ نے کیا کیا، نبی کریم ﷺ اور لوگوں کو یہاں روک دیا حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، مگر مجھے حرکت کرنے سے صرف یہ بات روکے رکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ بغیر وضو کے صبح ہو گئی، تو اللہ نے تیمم کی آیت نازل فرما دی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں۔ چنانچہ ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے پایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19433
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 49، حدیث 129