حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيُّ، ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ، قَالَ: قَالَ يَزِيدُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَخَافُ أَنْ يُنْسِيَ أَوَّلُهُ آخِرَهُ فَحَدِّثْنِي بِكَلِمَةٍ تَكُونُ جِمَاعًا قَالَ: «اتَّقِ اللهَ فِيمَا تَعْلَمُ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن سلمہ جعفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں نے آپ سے بہت سی احادیث سنی ہیں، مجھے ڈر ہے کہ ان کا پہلا حصہ آخری حصہ کو بھلا نہ دے، آپ مجھے ایسی جامع بات بتائیں (جو سب کے لیے کافی ہو)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تم جانتے ہو اس میں اللہ سے ڈرتے رہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ، أَنَّه قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ سَلَبُونَا الْحَقَّ الَّذِي لَهُمْ وَيَمْنَعُونَا الْحَقَّ الَّذِي لَنَا، فَقَالَ لَهُ الْأَشْعَثُ: اجْلِسْ فَأَعَادَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن سلمہ جعفی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اگر ہم پر ایسے حکمران ہوں جو ہم سے اپنا حق تو لے لیں اور ہمارا حق ہمیں نہ دیں (تو ہم کیا کریں؟) اس پر اشعث نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ انہوں نے یہی بات دوبارہ پوچھی، پھر تیسری بار پوچھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی ہے وہ ان کے ذمے ہے، اور جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے وہ تمہارے ذمے ہے۔“