کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوقلابہ کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفِي الْحُمُرِ زَكَاةٌ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الشَّاذَّةَ {مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهْ} »
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کیا گدھوں میں زکوٰۃ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس منفرد اور نادر آیت کے: ’جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18822
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 229، حدیث 602
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّا نَأْتِي أَرْضَ أَهْلِ الْكِتَابِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ: «اِغْسِلُوهَا ثُمَّ اطْبُخُوا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہلِ کتاب کی سرزمین میں جاتے ہیں، پھر میں نے ان کے برتنوں کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دھو لو، پھر ان میں پکاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18823
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 230، حدیث 603
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اكْتُبْ لِي بِأَرْضٍ، قَالَ: «كَيْفَ أَكْتُبُ وَهِي بِأَرْضِ الْحَرْبِ» فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَيَمْلُكَنَّ مَا تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ أَو الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اللهَ وَأَخَذَ وَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَمَا أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ فَلَا تَأْكُلْ وَمَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَكُلْ»
قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ أَهْلُهَا أَهْلُ كِتَابٍ نَحْتَاجُ إِلَى قُدُورِهِمْ وَآنِيَتِهِمْ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبُوهَا مَا وَجَدْتُمْ بُدًّا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا وَاشْرَبُوا»
«وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَحْمِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَعَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے فلاں زمین لکھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے لکھوں جبکہ وہ ابھی دشمن کی سرزمین میں ہے؟“ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، تم ضرور اس زمین کے مالک بنو گے جو ابھی ان کے قدموں تلے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پسند آئی، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور ان کے لیے زمین لکھ دی۔ پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم شکار کی سرزمین میں ہیں، تو ہمارے لیے اس میں سے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تُو اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور وہ شکار کو پکڑ کر مار ڈالے تو کھا، اور جب تُو اپنا غیر سدھایا ہوا کتا چھوڑے، تو اگر تُو نے اسے زندہ پا کر ذبح کیا ہو تو کھا، ورنہ نہ کھا، اور جو تیرا تیر تجھے واپس لوٹا دے تو کھا۔“
پھر انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس کے باشندے اہلِ کتاب ہیں، ہمیں ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ہو سکے ان کے قریب مت جاؤ، اگر ناچار ہو جاؤ تو انہیں پانی سے دھو لو، پھر پکاؤ اور پیو۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھے کے گوشت اور ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18824
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 230، حدیث 604
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَأُرْسِلُ سَهْمِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ وَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُعَلَّمَ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ وَأُرْسِلُ كَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَبَسَ عَلَيْكَ سَهْمُكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، وَمَا حَبَسَ عَلَيْهِ كَلْبُكَ الْمُعَلَّمُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، وَمَا حَبَسَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَإِنْ لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلَا تَأْكُلْ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ بِآنِيَتِهِمْ؟ فَقَالَ: «لَا تَقْرَبُوهَا إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری زمین شکار کی زمین ہے، میں اپنا تیر چلاتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں، اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں، اور اپنا غیر سدھایا ہوا کتا بھی چھوڑتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تیرا تیر تیرے لیے روک رکھے اور تُو نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھا، اور جو کچھ تیرا سدھایا ہوا کتا تیرے لیے روک رکھے اور تُو نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھا، اور جو کچھ تیرا غیر سدھایا ہوا کتا تیرے لیے روک رکھے اور تُو نے اسے زندہ پا کر ذبح کیا ہو تو کھا، اور اگر تُو نے اسے زندہ نہ پایا ہو تو نہ کھا۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری زمین اہلِ کتاب کی زمین ہے، تو آپ ہمیں ان کے برتنوں کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے قریب مت جاؤ، الا یہ کہ ان کے بغیر تمہارا گزارا نہ ہو، تو انہیں پانی سے دھو لو، پھر ان میں پکاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18825
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 231، حدیث 605