حدیث نمبر: 18824
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اكْتُبْ لِي بِأَرْضٍ، قَالَ: «كَيْفَ أَكْتُبُ وَهِي بِأَرْضِ الْحَرْبِ» فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَيَمْلُكَنَّ مَا تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ أَو الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اللهَ وَأَخَذَ وَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَمَا أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ فَلَا تَأْكُلْ وَمَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَكُلْ»
قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ أَهْلُهَا أَهْلُ كِتَابٍ نَحْتَاجُ إِلَى قُدُورِهِمْ وَآنِيَتِهِمْ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبُوهَا مَا وَجَدْتُمْ بُدًّا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا وَاشْرَبُوا»
«وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَحْمِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَعَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ»
ترجمہ

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے فلاں زمین لکھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے لکھوں جبکہ وہ ابھی دشمن کی سرزمین میں ہے؟“ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، تم ضرور اس زمین کے مالک بنو گے جو ابھی ان کے قدموں تلے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پسند آئی، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور ان کے لیے زمین لکھ دی۔ پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم شکار کی سرزمین میں ہیں، تو ہمارے لیے اس میں سے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تُو اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور وہ شکار کو پکڑ کر مار ڈالے تو کھا، اور جب تُو اپنا غیر سدھایا ہوا کتا چھوڑے، تو اگر تُو نے اسے زندہ پا کر ذبح کیا ہو تو کھا، ورنہ نہ کھا، اور جو تیرا تیر تجھے واپس لوٹا دے تو کھا۔“
پھر انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس کے باشندے اہلِ کتاب ہیں، ہمیں ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ہو سکے ان کے قریب مت جاؤ، اگر ناچار ہو جاؤ تو انہیں پانی سے دھو لو، پھر پکاؤ اور پیو۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھے کے گوشت اور ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18824
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 230، حدیث 604