المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
أبو قلابة، عن أبي ثعلبة باب: ابوقلابہ کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَأُرْسِلُ سَهْمِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ وَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُعَلَّمَ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ وَأُرْسِلُ كَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَبَسَ عَلَيْكَ سَهْمُكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، وَمَا حَبَسَ عَلَيْهِ كَلْبُكَ الْمُعَلَّمُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، وَمَا حَبَسَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَإِنْ لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلَا تَأْكُلْ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ بِآنِيَتِهِمْ؟ فَقَالَ: «لَا تَقْرَبُوهَا إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا»سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری زمین شکار کی زمین ہے، میں اپنا تیر چلاتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں، اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں، اور اپنا غیر سدھایا ہوا کتا بھی چھوڑتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تیرا تیر تیرے لیے روک رکھے اور تُو نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھا، اور جو کچھ تیرا سدھایا ہوا کتا تیرے لیے روک رکھے اور تُو نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھا، اور جو کچھ تیرا غیر سدھایا ہوا کتا تیرے لیے روک رکھے اور تُو نے اسے زندہ پا کر ذبح کیا ہو تو کھا، اور اگر تُو نے اسے زندہ نہ پایا ہو تو نہ کھا۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری زمین اہلِ کتاب کی زمین ہے، تو آپ ہمیں ان کے برتنوں کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے قریب مت جاؤ، الا یہ کہ ان کے بغیر تمہارا گزارا نہ ہو، تو انہیں پانی سے دھو لو، پھر ان میں پکاؤ۔“