حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحٍ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِهِ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنَّى أَبَا الْحَكَمٍ، فَقَالَ: «لِمَ يُكَنِّيكَ هَؤُلَاءِ أَبَا الْحَكَمِ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَحْكُمُ بَيْنَ قَوْمِي فِي الشَّيْءِ يَكُونُ بَيْنَهُمْ فَيَرْضَى هَؤُلَاءِ وهَؤُلَاءِ، فَكُنِّيتُ أَبَا الْحَكَمِ وَلَيْسَ لِي وَلَدٌ، فَأَنَا أَبُو الْحَكَمِ. قَالَ: «هَلْ لَكَ وَلَدٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «مَا اسْمُ أَكْبَرِهِمْ؟» قَالَ: شُرَيْحٌ. قَالَ: «فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ»
ترجمہ
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے سنا کہ لوگ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لوگ تمہیں ابوالحکم کیوں کہتے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے درمیان جو معاملہ پیش آتا اس میں فیصلہ کرتا تھا اور دونوں فریق راضی ہو جاتے تھے، اسی وجہ سے مجھے ابوالحکم کہا جانے لگا، حالانکہ میرا کوئی بیٹا نہیں، پھر بھی میں ابوالحکم ہی کہلاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہاری اولاد ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے سب سے بڑے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: شریح۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ابوشریح ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُمْ يُكَنُّونِي بِأَبِي الْحَكَمِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، لِمَ تُكَنَّى بِأَبِي الْحَكَمِ؟» ، قُلْتُ: إِذَا كَانَ بَيْنَ قَوْمِي شَيْءٌ تَحَاكَمُوا إِلَيَّ فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ رَضُوا بِحُكْمِي. قَالَ: «وَمَا لَكَ مِنْ وَلَدٍ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «فَمَا اسْمُ أَكْبَرِهِمْ؟» ، قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ: «فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ»
ترجمہ
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنی قوم کے وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگ مجھے ابوالحکم کہہ کر پکارتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی حَکَم ہے، تمہیں ابوالحکم کیوں کہا جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جب میری قوم کے درمیان کوئی معاملہ پیش آتا تو وہ میرے پاس فیصلے کے لیے آتے، میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا تو وہ میرے فیصلے پر راضی ہو جاتے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے سب سے بڑے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: شریح۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ابوشریح ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِهِ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُكَنُّونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ بِوَلَدٍ؟» قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ رَضِيَ كُلُّ الْفَرِيقَيْنِ قَالَ: «مَا أَحْسَنُ هَذَا»
ترجمہ
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے سنا کہ لوگ ہانی کو ابوالحکم کہہ کر پکار رہے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”اللہ ہی حَکَم ہے، تمہیں ابوالحکم کیوں کہا جاتا ہے، کیا تمہارا کوئی بیٹا اسی نام کا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ میری قوم جب کسی معاملے میں اختلاف کرتی تو میرے پاس آتی، میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا تو دونوں فریق راضی ہو جاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ يُوجِبُ لِي الْجَنَّةَ، قَالَ: «يُوجِبُ الْجَنَّةَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ»
ترجمہ
سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جو میرے لیے جنت واجب کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت واجب کرنے والی چیزیں کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ، قَالَ: «أَطْعِمِ الطَّعَامَ وَافْشِ السَّلَامَ»
ترجمہ
سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی عمل بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھانا کھلاؤ اور سلام پھیلاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَعْطَانِي ابْنُ الْأَشْجَعِيُّ كُتُبَا عَنْ أَبِيهِ، فَكَانَ فِيهَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمِلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلَامِ، وَحُسْنُ الْكَلَامِ»
ترجمہ
سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مغفرت واجب کرنے والی چیزوں میں سے سلام کرنا اور اچھی بات کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلَامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جو جنت واجب کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی بات کرنے اور کھانا کھلانے کو لازم پکڑو۔“