حدیث نمبر: 18684
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحٍ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِهِ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنَّى أَبَا الْحَكَمٍ، فَقَالَ: «لِمَ يُكَنِّيكَ هَؤُلَاءِ أَبَا الْحَكَمِ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَحْكُمُ بَيْنَ قَوْمِي فِي الشَّيْءِ يَكُونُ بَيْنَهُمْ فَيَرْضَى هَؤُلَاءِ وهَؤُلَاءِ، فَكُنِّيتُ أَبَا الْحَكَمِ وَلَيْسَ لِي وَلَدٌ، فَأَنَا أَبُو الْحَكَمِ. قَالَ: «هَلْ لَكَ وَلَدٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «مَا اسْمُ أَكْبَرِهِمْ؟» قَالَ: شُرَيْحٌ. قَالَ: «فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ»
ترجمہ

سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے سنا کہ لوگ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لوگ تمہیں ابوالحکم کیوں کہتے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے درمیان جو معاملہ پیش آتا اس میں فیصلہ کرتا تھا اور دونوں فریق راضی ہو جاتے تھے، اسی وجہ سے مجھے ابوالحکم کہا جانے لگا، حالانکہ میرا کوئی بیٹا نہیں، پھر بھی میں ابوالحکم ہی کہلاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہاری اولاد ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے سب سے بڑے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: شریح۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ابوشریح ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18684
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 178، حدیث 464