حدیث نمبر: 18685
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُمْ يُكَنُّونِي بِأَبِي الْحَكَمِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، لِمَ تُكَنَّى بِأَبِي الْحَكَمِ؟» ، قُلْتُ: إِذَا كَانَ بَيْنَ قَوْمِي شَيْءٌ تَحَاكَمُوا إِلَيَّ فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ رَضُوا بِحُكْمِي. قَالَ: «وَمَا لَكَ مِنْ وَلَدٍ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «فَمَا اسْمُ أَكْبَرِهِمْ؟» ، قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ: «فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ»
ترجمہ

سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنی قوم کے وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگ مجھے ابوالحکم کہہ کر پکارتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی حَکَم ہے، تمہیں ابوالحکم کیوں کہا جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جب میری قوم کے درمیان کوئی معاملہ پیش آتا تو وہ میرے پاس فیصلے کے لیے آتے، میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا تو وہ میرے فیصلے پر راضی ہو جاتے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے سب سے بڑے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: شریح۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ابوشریح ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18685
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 179، حدیث 465