حدیث نمبر: 18686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِهِ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُكَنُّونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ بِوَلَدٍ؟» قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ رَضِيَ كُلُّ الْفَرِيقَيْنِ قَالَ: «مَا أَحْسَنُ هَذَا»
ترجمہ

سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے سنا کہ لوگ ہانی کو ابوالحکم کہہ کر پکار رہے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”اللہ ہی حَکَم ہے، تمہیں ابوالحکم کیوں کہا جاتا ہے، کیا تمہارا کوئی بیٹا اسی نام کا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ میری قوم جب کسی معاملے میں اختلاف کرتی تو میرے پاس آتی، میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا تو دونوں فریق راضی ہو جاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18686
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 179، حدیث 466