کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: ان کے بعض واقعات
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو شُرَيْحٍ الْكَعْبِيُّ وَاسْمُهُ خُوَيْلِدُ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ بِالْمَدِينَةِ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي وَفَاتِهِ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر بیان کرتے ہیں: ابوشریح کعبی، جن کا نام خویلد تھا، سنہ 68 ہجری میں مدینہ میں وفات پا گئے، اور ان کی وفات کے سال میں اختلاف بھی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18691
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 181، حدیث 471
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: «مَاتَ أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں: ابوشریح خزاعی، جن کا نام کعب بن عمرو تھا، سنہ 58 ہجری میں وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18692
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 181، حدیث 472
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدِينِيُّ فُسْتُقَةُ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَمَّالُ، قَالَ: «أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ خُوَيْلِدٍ»
ترجمہ
ہارون بن عبداللہ حمال بیان کرتے ہیں: ابوشریح خزاعی کا نام کعب بن عمرو تھا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خویلد بن عمرو تھا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمرو بن خویلد تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18693
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 181، حدیث 473
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ الْكَعْبِيُّ: " مَنْ رَآنِي أُلَاحِي خَتَنًا لِي، أَفْرَشَنِي كَرِيمَتَهُ، وَأَفْرَشْتُهُ كَرِيمَتِي، فَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَجْنُونٌ، فاكْوُوا رَأْسِي. وَمَنْ رَأَى لِأَبِي شُرَيْحٍ حَدًّا (جَدْيًا) أَوْ لَبَنًا يُبَاعُ فِي السُّوقِ فَهُوَ نَهْبِي. وَمَنْ رَآنِي أُجَادِلُ جَارًا لِي لَبِنَةً فَأَنَا مَجْنُونٌ، فَاكْوُوا رَأْسِي. قَالَ: فَاخْتَبَرَهُ جَارٌ لَهُ، يُقَالُ لَهُ عَجْرَفَةُ فَأَخَذَ مِنْ دَارِهِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّهُ قَدْ أَخَذَ مِنْ دَارِكَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ، فَقَالَ: هُوَ أَعْلَمُ قَالَ: فَرَدَّهُ عَلَيْهِ جَارُهُ بَعْدُ، وَرَجَعَ إِلَى حَقِّهِ "
ترجمہ
سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کوئی مجھے اپنے سسرالی رشتے دار سے، جس نے مجھے اپنی بیٹی بیاہ دی ہو اور میں نے اپنی بیٹی اسے بیاہ دی ہو، جھگڑتے دیکھے تو اس دن میں دیوانہ ہوں، میرے سر پر داغ لگا دو۔ اور جو کوئی ابوشریح کی کوئی بکری کا بچہ یا دودھ بازار میں بکتے دیکھے تو وہ اس کے لیے میری طرف سے لوٹ لینے کی چیز ہے (یعنی وہ اسے مفت لے لے)۔ اور جو کوئی مجھے اپنے پڑوسی سے ایک اینٹ (دیوار کی حد) پر جھگڑتے دیکھے تو میں دیوانہ ہوں، میرے سر پر داغ لگا دو۔“ راوی کہتے ہیں: ان کے ایک پڑوسی نے، جسے عجرفہ کہا جاتا تھا، ان کی اس بات کو آزمایا اور ان کے گھر سے دس ہاتھ زمین لے لی۔ لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوشریح! اس نے تمہارے گھر سے دس ہاتھ لے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ زیادہ جانتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں ان کے پڑوسی نے وہ جگہ انہیں واپس کر دی اور وہ اپنے حق کی طرف لوٹ آیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18694
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 181، حدیث 474