کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: حجاج بن ارطاۃ اور عبداللہ بن مختار کی عون سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا الْحَجَّاجُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى بِالْبَطْحَاءِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، فَجَعَلَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بطحاء میں نماز پڑھی جبکہ آپ ﷺ کے سامنے ایک نیزہ گڑا ہوا تھا، اور اس کے پیچھے سے کتا، گدھا اور عورت گزرتے رہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18478
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 105، حدیث 258
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ بِلَالًا «أَذِنَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَجَعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَجَعَلَ يَسْتَدِيرُ»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بطحاء میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اذان دی، وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالے ہوئے تھے اور گھوم رہے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18479
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 105، حدیث 259
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ بِلَالٌ «إِذَا أَذَّنَ وَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب اذان دیتے تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھتے اور اذان کے دوران گھومتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18480
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 105، حدیث 260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ بِلَالًا أَذَّنَ فَأَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا وَالْتَفَتَ سُفْيَانُ يَمِينًا وَشِمَالًا» قَالَ يَحْيَى: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ حَجَّاجُ يَذْكُرُهُ عَنْ عَوْنٍ أَنَّهُ قَالَ: وَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ فَلَمَّا لَقِينَا عَوْنًا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ اسْتَدَارَ
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا، وہ اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے تھے، اور سفیان نے (اسے بیان کرتے ہوئے) دائیں بائیں منہ پھیرا۔
یحییٰ کہتے ہیں: سفیان نے کہا کہ حجاج اسے عون سے یہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ”اور اذان میں گھومے“ کا ذکر بھی کیا تھا، لیکن جب ہم خود عون سے ملے تو انہوں نے اس میں ”گھومنے“ کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18481
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 105، حدیث 261
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمَكِّنُ أَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ كَمَا يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی ناک کو زمین پر اسی طرح جماتے تھے جس طرح اپنی پیشانی کو جماتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18482
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 105، حدیث 262
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ السَّوَارِقِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَرَأَ الْحَدَّ عَنِ امْرَأَةٍ اسْتُكْرِهَتْ»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسی عورت سے حد ساقط کر دی جس پر زیادتی کی گئی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18483
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 106، حدیث 263
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ فَقَالَ: «مَنْ أَنْتُمْ؟» قُلْنَا: بَنُو عَامِرٍ فَقَالَ: «مَرْحَبًا أَنْتُمْ مِنِّي»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابطح میں نبی کریم ﷺ کے پاس ان کے سرخ خیمے میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ ہم نے عرض کیا: بنو عامر۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید، تم مجھ سے ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18484
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 106، حدیث 264
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ: «مَنْ أَنْتُمْ؟» قُلْنَا: مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ مِنِّي»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور بنو عامر کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ ہم نے عرض کیا: بنو عامر سے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں خوش آمدید، تم مجھ سے ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18485
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 106، حدیث 265
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ: لَنَا مِمَّنْ أَنْتُمْ قُلْنَا مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَأَنَا مِنْكُمْ ثُمَّ خَرَجَ بِلَالٌ وَوَضَعَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَهُورًا ثُمَّ أَذَّنَ وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ ورَكَزَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَزَةً فَصَلَّى إِلَيْهَا فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِالْمَدِينَةِ» وَوَعَدَنَا سُلْتًا، فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، فَأَتَيْنَا أَبَا بَكْرٍ فَأَنْجِزْ مَا وَعَدَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ ابطح میں ایک سرخ خیمے میں بنو عامر کے کچھ لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے ہم سے پوچھا: ”تم کس قبیلے سے ہو؟“ ہم نے کہا: بنو عامر سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں بھی تم میں سے ہوں۔“ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، پھر اذان دی اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں اور اذان دیتے ہوئے گھومے، اور رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک نیزہ گاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے ظہر دو رکعت اور عصر دو رکعت پڑھائی، اور رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”مدینہ میں میرے پاس آنا“ اور ہم سے سلت (جو کی ایک قسم) دینے کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو چکا تھا، ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا وعدہ پورا کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18486
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 106، حدیث 266