❮
❯
حدیث نمبر: 18486
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ: لَنَا مِمَّنْ أَنْتُمْ قُلْنَا مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَأَنَا مِنْكُمْ ثُمَّ خَرَجَ بِلَالٌ وَوَضَعَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَهُورًا ثُمَّ أَذَّنَ وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ ورَكَزَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَزَةً فَصَلَّى إِلَيْهَا فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِالْمَدِينَةِ» وَوَعَدَنَا سُلْتًا، فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، فَأَتَيْنَا أَبَا بَكْرٍ فَأَنْجِزْ مَا وَعَدَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ ابطح میں ایک سرخ خیمے میں بنو عامر کے کچھ لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے ہم سے پوچھا: ”تم کس قبیلے سے ہو؟“ ہم نے کہا: بنو عامر سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں بھی تم میں سے ہوں۔“ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، پھر اذان دی اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں اور اذان دیتے ہوئے گھومے، اور رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک نیزہ گاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے ظہر دو رکعت اور عصر دو رکعت پڑھائی، اور رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”مدینہ میں میرے پاس آنا“ اور ہم سے سلت (جو کی ایک قسم) دینے کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو چکا تھا، ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا وعدہ پورا کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18486
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 106، حدیث 266