کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوملیح بن اسامہ ہذلی کی سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ أَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ وَأُنْزِلَ الْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الزَّبُورُ لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ لِأَرْبَعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات نازل ہوئے، تورات چھ رمضان کو نازل ہوئی، انجیل تیرہ رمضان کو نازل ہوئی، زبور اٹھارہ رمضان کو نازل ہوئی، اور قرآن چودہ رمضان کو نازل ہوا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18405
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 75، حدیث 185
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَالْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ الْبَصْرِيُّ قَالَا ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمَثَانِيَ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تورات کے بدلے سبع طوال (لمبی سورتیں) دی گئیں، زبور کے بدلے مثانی دی گئیں، اور مفصل سورتوں کے ذریعے مجھے فضیلت دی گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18406
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 75، حدیث 186
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ السَّبْعَ الطُّوَلَ مَكَانَ التَّوْرَاةِ، وَأُعْطِيتُ الْمَثَانِيَ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ، وَأُعْطِيتُ الْمِئِينَ مَكَانَ الزَّبُورِ وَفُضِّلْتَ بِالْمُفَصَّلِ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تورات کے بدلے سبع طوال دی گئیں، انجیل کے بدلے مثانی دی گئیں، اور زبور کے بدلے مئین (سو آیتوں والی سورتیں) دی گئیں، اور مجھے مفصل سورتوں کے ذریعے فضیلت دی گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18407
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 76، حدیث 187
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت سے بنو تمیم (کے پورے قبیلے) سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18408
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 76، حدیث 188
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ، ح وَحَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: أَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَكْتُبَ عَلَيَّ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسواک کرنے کا اس قدر حکم دیا گیا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر فرض نہ کر دی جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18409
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 76، حدیث 189
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وجَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكْتُبَ عَلَيَّ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسواک کرنے کا اس قدر حکم دیا گیا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر فرض نہ کر دی جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18410
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 76، حدیث 190
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ، ثنا زُرَيْقُ بْنُ السَّخْتِ، قَالَ: أَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ قَالَا ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللهِ فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللهِ فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللهِ قَالَ: «أَوَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ، وَتَطَهَّرْتَ فَأَحْسَنْتَ الطُّهُورَ، وَشَهِدْتَ مَعَنَا الصَّلَاةَ آنِفًا» قَالَ: بَلَى قَالَ: «اذْهَبْ فَهِيَ كَفَّارَتُكَ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے نماز مکمل کی تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کا ارتکاب ہو گیا ہے، آپ مجھ پر اللہ کی حد قائم فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے وضو نہیں کیا اور اچھی طرح وضو کیا، اور پاکی حاصل کی اور اچھی طرح پاکی حاصل کی، اور ابھی ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہوئے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، یہی تمہارا کفارہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18411
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 77، حدیث 191
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو الرَّبِيعُ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: اللهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَقَالُوا لَهُ: وَيْحَكَ وَوْيلَكَ لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا، ثُمَّ تَنَحَّى الْأَعْرَابِيُّ، فَبَالَ قَائِمًا فَوَثَبُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ مَبَالِهِ» ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهِ
ترجمہ
(ایک اعرابی نے دعا کی) ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔“ لوگوں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس، تو نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا۔ پھر وہ اعرابی الگ ہو کر کھڑے کھڑے پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف لپکے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے پیشاب سے فارغ ہو جائے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اسے اس کے پیشاب پر بہا دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18412
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 77، حدیث 192
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: تَرَاءَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ: إِلَيْكَ يَا وَاثِلَةُ، أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ لِيَسْأَلَ» فَدَنَوْتُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتِنَا عَنْ أَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: «لِتُعِنْكَ نَفْسُكَ» فَقَالَ " كَيْفَ لِي بِذَلِكَ؟ فَقَالَ: «تَدَعُ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمَفْتُونَ» فَقُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ، فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَالِ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ، وَإِنَّ وَرَعَ الْمُسْلِمِ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ» قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ» قُلْتُ: فَمَنِ الْحَرِيصُ؟ قَالَ: «الَّذِي يَطْلُبُ الْمكسبةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا» قُلْتُ: فَمَنِ الْوَرَعِ؟ قَالَ: «الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ» قُلْتُ: فَمَنِ الْمُؤْمِنُ؟ قَالَ: «مِنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ» قُلْتُ: فَمَنِ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» ، قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كَلِمَةٌ حُكْمٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس مسجدِ خیف میں آیا تو آپ ﷺ کے صحابہ نے مجھ سے کہا: اے واثلہ! پیچھے ہٹ جاؤ، یعنی نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، وہ تو صرف سوال کرنے آیا ہے۔“ تو میں قریب ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جسے ہم آپ کے بعد اپنائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نفس ہی کو اپنا مددگار بناؤ۔“ میں نے عرض کیا: یہ میں کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، خواہ کوئی فتویٰ دینے والا تمہیں فتویٰ ہی کیوں نہ دے دے۔“ میں نے عرض کیا: مجھے اس کا علم کیسے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھو، کیونکہ دل حلال کے وقت مطمئن ہوتا ہے اور حرام کے وقت مطمئن نہیں ہوتا، اور مسلمان کا ورع یہ ہے کہ وہ چھوٹی چیز کو بھی اس اندیشے سے چھوڑ دے کہ کہیں بڑی چیز میں نہ پڑ جائے۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، عصبیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔“ میں نے عرض کیا: حریص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو ناجائز طریقے سے کمائی تلاش کرے۔“ میں نے عرض کیا: پرہیزگار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو شبہے کے وقت رک جائے۔“ میں نے عرض کیا: مومن کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں مطمئن ہوں۔“ میں نے عرض کیا: مسلمان کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔“ میں نے عرض کیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18413
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 78، حدیث 193