المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو المليح بن أسامة الهذلي، عن واثلة باب: ابوملیح بن اسامہ ہذلی کی سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: تَرَاءَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ: إِلَيْكَ يَا وَاثِلَةُ، أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ لِيَسْأَلَ» فَدَنَوْتُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتِنَا عَنْ أَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: «لِتُعِنْكَ نَفْسُكَ» فَقَالَ " كَيْفَ لِي بِذَلِكَ؟ فَقَالَ: «تَدَعُ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمَفْتُونَ» فَقُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ، فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَالِ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ، وَإِنَّ وَرَعَ الْمُسْلِمِ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ» قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ» قُلْتُ: فَمَنِ الْحَرِيصُ؟ قَالَ: «الَّذِي يَطْلُبُ الْمكسبةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا» قُلْتُ: فَمَنِ الْوَرَعِ؟ قَالَ: «الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ» قُلْتُ: فَمَنِ الْمُؤْمِنُ؟ قَالَ: «مِنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ» قُلْتُ: فَمَنِ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» ، قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كَلِمَةٌ حُكْمٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ»سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس مسجدِ خیف میں آیا تو آپ ﷺ کے صحابہ نے مجھ سے کہا: اے واثلہ! پیچھے ہٹ جاؤ، یعنی نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، وہ تو صرف سوال کرنے آیا ہے۔“ تو میں قریب ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جسے ہم آپ کے بعد اپنائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نفس ہی کو اپنا مددگار بناؤ۔“ میں نے عرض کیا: یہ میں کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، خواہ کوئی فتویٰ دینے والا تمہیں فتویٰ ہی کیوں نہ دے دے۔“ میں نے عرض کیا: مجھے اس کا علم کیسے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھو، کیونکہ دل حلال کے وقت مطمئن ہوتا ہے اور حرام کے وقت مطمئن نہیں ہوتا، اور مسلمان کا ورع یہ ہے کہ وہ چھوٹی چیز کو بھی اس اندیشے سے چھوڑ دے کہ کہیں بڑی چیز میں نہ پڑ جائے۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، عصبیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔“ میں نے عرض کیا: حریص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو ناجائز طریقے سے کمائی تلاش کرے۔“ میں نے عرض کیا: پرہیزگار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو شبہے کے وقت رک جائے۔“ میں نے عرض کیا: مومن کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں مطمئن ہوں۔“ میں نے عرض کیا: مسلمان کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔“ میں نے عرض کیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا۔“