کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، سیدنا مقداد کی زوجہ، کی اپنے شوہر سے روایت
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ - قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ إِنَّمَا يَذْهَبُونَ لِحَاجَتِهِمْ فَرَطَ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَيَبْعُرُونَ كَمَا تَبْعَرُ الْبَعِيرُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ خَرَجَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ حَتَّى بَلَغَ الْخَبْخَبَةَ - وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ - فَدَخَلَ خَرِبَةً لِحَاجَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ إِذْ أَخْرَجَ جُرَذٌ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، فَلَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا فَقَالَ: «هَلِ اتَّبَعَتْ يَدُكَ الْجُحْرَ؟» فَقُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ: «لَا صَدَقَةَ عَلَيْكَ فِيهَا، بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا» قَالَتْ ضُبَاعَةُ: «فَمَا فَنِيَ آخِرُهَا حَتَّى رَأَيْتُ غَدَائِرَ الْوَرِقِ فِي بَيْتِ الْمِقْدَادِ»
ترجمہ
…وہ دینار در دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ سترہ دینار ہو گئے، تو میں انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو ان کے بارے میں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارا ہاتھ سوراخ کے اندر تک پہنچا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں تم پر کوئی صدقہ نہیں، اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔“ ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”پھر اس کا آخری حصہ بھی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے مقداد کے گھر میں چاندی کے کنگن دیکھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17745
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 259، حدیث 611
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ فَدَخَلَ خَرِبَةً، فَإِذَا الْجُرَذُ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا دِينَارًا، حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ خَضْرَاءَ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَقُمْتُ فَمَدَدْتُ طَرَفَ الْخِرْقَةِ فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَذَهَبَ بِهَا الْمِقْدَادُ وَاسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ خَبَرَهَا وَقَالَ: خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ أَهْوَيْتَ بِيَدِكَ إِلَى الْجُحْرِ» ؟ قَالَ الْمِقْدَادُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْمِقْدَادِ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا»
ترجمہ
…جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو انہیں سارا واقعہ بتایا اور کہا: یا رسول اللہ! اس کی زکاۃ لے لیجیے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنا ہاتھ سوراخ کے اندر تک بڑھایا تھا؟“ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے مقداد سے فرمایا: ”اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17746
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 260، حدیث 612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ - عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْكَ شَكَكْتُ فِيهِ، قَالَ: «فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْأَمْرِ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ» ، قَالَ: قَوْلُكَ فِي أَزْوَاجِكَ: «إِنِّي لَأَرْجُو لَهُنَّ مِنْ بَعْدِي الصِّدِّيقِينَ» ، قَالَ: «وَمَنْ تَعُدُّونَ الصِّدِّيقِينَ؟» فَقُلْنَا: أَوْلَادَنَا الَّذِينَ يَهْلِكُونَ صِغَارًا، قَالَ: «وَلَكِنَّ الصِّدِّيقِينَ هُمُ الْمُتَصَدِّقُونَ» قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ
…سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا - جو سیدنا مقداد کے نکاح میں تھیں - اپنے شوہر سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ایک بات جو میں نے آپ سے سنی، اس میں مجھے شک ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کسی معاملے میں شک ہو تو وہ مجھ سے پوچھے۔“ میں نے کہا: آپ کا اپنی بیویوں کے بارے میں یہ فرمانا کہ ”مجھے امید ہے کہ میرے بعد وہ صدیقین کے ساتھ ہوں گی“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم صدیقین کسے سمجھتے ہو؟“ ہم نے کہا: اپنی اولاد کو جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ صدیقین وہ ہیں جو صدقہ کرنے والے ہیں،“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17747
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 260، حدیث 613
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى فَرَسِهِ - يُقَالُ لَهَا: سُبْحَةٌ - «فَأَسْهَمَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَرَسِهِ سَهْمًا، وَلَهُ سَهْمًا»
ترجمہ
…سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ بدر کے دن اپنے گھوڑے - جسے 'سُبحہ' کہا جاتا تھا - پر سوار تھے، تو نبی کریم ﷺ نے ان کے گھوڑے کے لیے ایک حصہ اور ان کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17748
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 261، حدیث 614