المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب امرأة المقداد، عن المقداد باب: سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، سیدنا مقداد کی زوجہ، کی اپنے شوہر سے روایت
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ - عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْكَ شَكَكْتُ فِيهِ، قَالَ: «فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْأَمْرِ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ» ، قَالَ: قَوْلُكَ فِي أَزْوَاجِكَ: «إِنِّي لَأَرْجُو لَهُنَّ مِنْ بَعْدِي الصِّدِّيقِينَ» ، قَالَ: «وَمَنْ تَعُدُّونَ الصِّدِّيقِينَ؟» فَقُلْنَا: أَوْلَادَنَا الَّذِينَ يَهْلِكُونَ صِغَارًا، قَالَ: «وَلَكِنَّ الصِّدِّيقِينَ هُمُ الْمُتَصَدِّقُونَ» قَالَهَا ثَلَاثًا…سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا - جو سیدنا مقداد کے نکاح میں تھیں - اپنے شوہر سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ایک بات جو میں نے آپ سے سنی، اس میں مجھے شک ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کسی معاملے میں شک ہو تو وہ مجھ سے پوچھے۔“ میں نے کہا: آپ کا اپنی بیویوں کے بارے میں یہ فرمانا کہ ”مجھے امید ہے کہ میرے بعد وہ صدیقین کے ساتھ ہوں گی“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم صدیقین کسے سمجھتے ہو؟“ ہم نے کہا: اپنی اولاد کو جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ صدیقین وہ ہیں جو صدقہ کرنے والے ہیں،“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔