المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب امرأة المقداد، عن المقداد باب: سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، سیدنا مقداد کی زوجہ، کی اپنے شوہر سے روایت
حدیث نمبر: 17745
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ - قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ إِنَّمَا يَذْهَبُونَ لِحَاجَتِهِمْ فَرَطَ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَيَبْعُرُونَ كَمَا تَبْعَرُ الْبَعِيرُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ خَرَجَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ حَتَّى بَلَغَ الْخَبْخَبَةَ - وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ - فَدَخَلَ خَرِبَةً لِحَاجَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ إِذْ أَخْرَجَ جُرَذٌ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، فَلَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا فَقَالَ: «هَلِ اتَّبَعَتْ يَدُكَ الْجُحْرَ؟» فَقُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ: «لَا صَدَقَةَ عَلَيْكَ فِيهَا، بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا» قَالَتْ ضُبَاعَةُ: «فَمَا فَنِيَ آخِرُهَا حَتَّى رَأَيْتُ غَدَائِرَ الْوَرِقِ فِي بَيْتِ الْمِقْدَادِ»ترجمہ
…وہ دینار در دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ سترہ دینار ہو گئے، تو میں انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو ان کے بارے میں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارا ہاتھ سوراخ کے اندر تک پہنچا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں تم پر کوئی صدقہ نہیں، اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔“ ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”پھر اس کا آخری حصہ بھی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے مقداد کے گھر میں چاندی کے کنگن دیکھے۔“